Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#5373sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِي ِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَالْعَانِي الأَسِيرُ‏.‏

Narrated Abu Musa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Give food to the hungry, pay a visit to the sick and release (set free) the one in captivity (by paying his ransom). Sufyan says: ''وَالْعَانِي'' means capative.

Urdu

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں منصور نے ان سے ابووائل نے بیان کیا ، اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بھوکے کو کھلاؤ پلاؤ ، بیمار کی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ ۔ سفیان ثوری نے کہا کہ ( حدیث میں ) لفظ ” عانی “ سے مراد قیدی ہے ۔

#5374sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ طَعَامٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The family of Muhammad did not eat their fill for three successive days till he died.

Urdu

ہم سے یوسف بن عیسیٰ مروزی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابوحازم ( سلمہ بن اشجعی ) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

انھوں نے فرمایا: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےاہل وعیال نےتین دن متواترکبھی کھاناسیر ہو کر نہیں حتیٰ کےآپ کی روح قبض ہو گئی.

#5375sahih-bukhari · 71

وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَىَّ، فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ‏.‏ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي، وَعَرَفَ الَّذِي بِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَحْلِهِ، فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ عُدْ يَا أَبَا هِرٍّ ‏"‏‏.‏ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ عُدْ ‏"‏‏.‏ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي فَصَارَ كَالْقِدْحِ ـ قَالَ ـ فَلَقِيتُ عُمَرَ وَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي وَقُلْتُ لَهُ تَوَلَّى اللَّهُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ، وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الآيَةَ وَلأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ‏.‏ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ حُمْرِ النَّعَمِ‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Once while I was in a state of fatigue (because of severe hunger), I met 'Umar bin Al-Khattab, so I asked him to recite a verse from Allah's Book to me. He entered his house and interpreted it to me. (Then I went out and) after walking for a short distance, I fell on my face because of fatigue and severe hunger. Suddenly I saw Allah's Apostle standing by my head. He said, "O Abu Huraira!" I replied, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ), and Sadaik!" Then he held me by the hand, and made me get up. Then he came to know what I was suffering from. He took me to his house, and ordered a big bowl of milk for me. I drank thereof and he said, "Drink more, O Abu Hirr!" So I drank again, whereupon he again said, "Drink more." So I drank more till my belly became full and looked like a bowl. Afterwards I met 'Umar and mentioned to him what had happened to me, and said to him, "Somebody, who had more right than you, O 'Umar, took over the case. By Allah, I asked you to recite a Verse to me while I knew it better than you." On that Umar said to me, "By Allah, if I admitted and entertained you, it would have been dearer to me than having nice red camels.

Urdu

ابوحازم سے روایت ہے کہ

ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( بیان کیا کہ فاقہ کی وجہ سے ) میں سخت مشقت میں مبتلا تھا ، پھر میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ان سے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے کے لیے کہا ۔ انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر اپنے گھر میں داخل ہو گئے ۔ اس کے بعد میں بہت دور تک چلتا رہا ۔ آخر مشقت اور بھوک کی وجہ سے میں منہ کے بل گر پڑا ۔ اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر کے پاس کھڑے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے ابوہریرہ ! میں نے کہا حاضر ہوں ، یا رسول اللہ ! تیار ہوں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کیا ۔ آپ سمجھ گئے کہ میں کس تکلیف میں مبتلا ہوں ۔ پھر آپ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا ایک بڑا پیالہ منگوایا ۔ میں نے اس میں دودھ پیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، دوبارہ پیو ( ابوہریرہ ! ) میں نے دوبارہ پیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور پیو ۔ میں نے اور پیا ۔ یہاں تک کہ میرا پیٹ بھی پیالہ کی طرح بھرپور ہو گیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ اے عمر ! اللہ تعالیٰ نے اسے اس ذات کے ذریعہ پورا کرا دیا ، جو آپ سے زیادہ مستحق تھی ۔ اللہ کی قسم ! میں نے تم سے آیت پوچھی تھی حالانکہ میں اسے تم سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر پڑھ سکتا تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ! اگر میں نے تم کو اپنے گھر میں داخل کر لیا ہوتا اور تم کو کھانا کھلادیتا تو لال لال ( عمدہ ) اونٹ ملنے سے بھی زیادہ مجھ کو خوشی ہوتی ۔

#5376sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ، سَمِعَ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، يَقُولُ كُنْتُ غُلاَمًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا غُلاَمُ سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ‏"‏‏.‏ فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ‏.‏

Narrated `Umar bin Abi Salama رضی اللہ عنہ :

I was a boy under the care of Allah's Messenger (ﷺ) and my hand used to go around the dish while I was eating. So Allah's Messenger (ﷺ) said to me, 'O boy! Mention the Name of Allah and eat with your right hand, and eat of the dish what is nearer to you." Since then I have applied those instructions when eating.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم کوسفیان ثوری نے خبر دی ، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی ، انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ، انہوں نے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

میں بچہ تھا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور ( کھاتے وقت ) میرا ہاتھ برتن میں چاروںطرف گھوما کرتا ۔ اس لیے آپ نے مجھ سے فرمایا ، بیٹے ! بسم اللہ پڑھ لیا کر ، داہنے ہاتھ سے کھایا کر اور برتن میں وہاں سے کھایاکر جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو ۔ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا ۔

#5377sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ـ وَهْوَ ابْنُ أُمِّ سَلَمَةَ ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ نَوَاحِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلْ مِمَّا يَلِيكَ ‏"‏‏.‏

Narrated Who was the son of Um Salama رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet:

Once I ate a meal with Allah's Messenger (ﷺ) and I was eating from all sides of the dish. So Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "Eat of the dish what is nearer to you."

Urdu

مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ دیلی نے بیان کیا ، ان سے وہب بن کیسان ابونعیم نے بیان کیا ، ان سے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ( ابوسلمہ سے ) بیٹے ہیں ۔ بیان کیا کہ

ایک دن میں نے رسول اللہ کے ساتھ کھانا کھایا اور برتن کے چاروں طرف سے کھانے لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے نزدیک سے کھا ۔

#5378sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ ‏ "‏ سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ‏"‏‏.‏

Narrated Wahb bin Kaisan Abi Nu'aim:

A meal was brought to Allah's Messenger (ﷺ) while his step-son, `Umar bin Abi Salama رضی اللہ عنہ was with him. Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Mention the Name of Allah and eat of the dish what is nearer to you."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، ان سے ابونعیم وہب بن کیسان نے بیان کیاکہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا ، آپ کے ساتھ آپ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھ اور اپنے سامنے سے کھا ۔

#5379sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ـ قَالَ أَنَسٌ ـ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الْقَصْعَةِ ـ قَالَ ـ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ‏.‏

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

A tailor invited Allah's Messenger (ﷺ) to a meal which he had prepared. Hadrat Anas رضی اللہ عنہ says that I went along with Allah's Messenger (ﷺ) and saw him seeking to eat the pieces of gourd from the various sides of the dish. Since that day I have liked to eat gourd. `Umar bin Abi Salama said: The Prophet, said to me, "Eat with your right hand."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے کی دعوت کی جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی گیا ، میں نے دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے ( کھانے کے لیے ) بیان کیا کہ اسی دن سے کدو مجھ کوبھی بہت بھانے لگا ۔

#5380sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ‏.‏ وَكَانَ قَالَ بِوَاسِطٍ قَبْلَ هَذَا فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ‏.‏

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) used to love to start doing things from the right side whenever possible, in performing ablution, putting on his shoes, and combing his hair. (Al-Ash'ath said: The Prophet (ﷺ) used to do so in all his affairs.)

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں اشعث نے ، انہیں ان کے والد نے ، انہیں مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ممکن ہوتا پاکی حاصل کرنے میں ، جو تا پہننے اور کنگھا کرنے میں داہنی طرف سے ابتداء کرتے ۔ اشعث اس حدیث کا راوی جب واسط شہر میں تھا تو اس نے اس حدیث میںیوں کہا تھا کہ ہر ایک کام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم داہنی طرف سے ابتداء کرتے ۔

#5381sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِطَعَامٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ ‏"‏ قُومُوا ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ‏.‏ فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلاَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ‏"‏‏.‏ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ أَذِنَ لِعَشَرَةٍ، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ ثَمَانُونَ رَجُلاً‏.‏

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Abu Talha رضی اللہ عنہ said to Um Sulaim رضی اللہ عنہا , "I have heard the voice of Allah's Messenger (ﷺ) which was feeble, and I think that he is hungry. Have you got something (to eat)?" She took out some loaves of barley bread, then took her face-covering sheet and wrapped the bread in part of it, and pushed it under my garment and turned the rest of it around my body and sent me to Allah's Messenger (ﷺ) . I went with that, and found Allah's Messenger (ﷺ) in the mosque with some people. I stood up near them, and Allah's Messenger (ﷺ) asked me, "Have you been sent by Abu Talha رضی اللہ عنہا ?" I said, "Yes." He asked, "With some food (for us)?" I said, "Yes." Then Allah's Messenger (ﷺ) said to all those who were with him, "Get up!" He set out (and all the people accompanied him) and I proceeded ahead of them till I came to Abu Talha رضی اللہ عنہا . Abu Talha رضی اللہ عنہا then said, "O Um Sulaim! Allah's Messenger (ﷺ) has arrived along with the people, and we do not have food enough to feed them all." She said, "Allah and His Apostle know better." So Abu Talha رضی اللہ عنہا went out till he met Allah's Messenger (ﷺ). Then Abu Talha رضی اللہ عنہا and Allah's Messenger (ﷺ) came and entered the house. Allah's Apostle said, "Um Sulaim! Bring whatever you have." She brought that very bread. The Prophet (ﷺ) ordered that it be crushed into small pieces, and Um Sulaim رضی اللہ عنہا pressed a skin of butter on it. Then Allah's Apostle said whatever Allah wished him to say (to bless the food) and then added, "Admit ten (men)." So they were admitted, ate their fill and went out. The Prophet (ﷺ) then said, "Admit ten (more)." They were admitted, ate their full, and went out. He then again said, "Admit ten more!" They were admitted, ate their fill, and went out. He admitted ten more, and so all those people ate their fill, and they were eighty men.

Urdu

ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں ضعف و نقاہت کو محسوس کیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ فاقہ سے ہیں ۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ چنانچہ انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں ، پھر اپنا دوپٹہ نکالا اور اس کے ایک حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کے ) کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور ایک حصہ مجھے چادر کی طرح اوڑھا دیا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، بیان کیا کہ میں جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ صحابہ تھے ۔ میں ان سب حضرات کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اے انس ! تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہو گا ۔ میں نے عرض کی جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کھانے کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کھڑے ہو جاؤ ۔ چنانچہ آپ روانہ ہوئے ۔ میں سب کے آگے آگے چلتا رہا ۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچا تو انہوں نے کہا ام سلیم ! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لائے ہیں ، حالانکہ ہمارے پاس کھانے کا اتنا سامان نہیں جو سب کو کافی ہو سکے ۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا اس پربولیں کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں ۔ بیان کیا کہ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ( استقبال کے لیے ) نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ۔ اس کے بعد ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور گھر میں داخل ہو گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم ! جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ یہاں لاؤ ۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا روٹی لائیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا چورا کر لیا گیا ۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اپنے گھی کے ڈبہ میں سے گھی نچوڑ کر اس کا ملیدہ بنا لیا ، پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دعا کرانی چاہی ، اس کے بعد فرمایا ان دس دس آدمی کو کھانے کے لیے بلا لو ۔ چنانچہ دس صحابہ کو بلایا ۔ سب نے کھایا اورشکم سیر ہو کر باہر چلے گئے ۔ پھر فرمایا کہ دس کو اوربلالو ، انہیں بلایا گیا اور سب نے شکم سیر ہو کر کھایا اور باہر چلے گئے ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ دس صحابہ کو اور بلا لو ، پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اور ان لوگوں نے بھی خوب پیٹ بھرکر کھایا اور باہر تشریف لے گئے ۔ اس کے بعد پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اس طرح تمام صحابہ نے پیٹ بھر کر کھایا ، اس وقت اسی ( 80 ) صحابہ کی جماعت وہاں موجود تھی ۔

#5382sahih-bukhari · 71

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَحَدَّثَ أَبُو عُثْمَانَ، أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثِينَ وَمِائَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ أَوْ ـ قَالَ ـ هِبَةٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ بَلْ بَيْعٌ‏.‏ قَالَ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَوَادِ الْبَطْنِ يُشْوَى، وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلاَثِينَ وَمِائَةٍ إِلاَّ قَدْ حَزَّ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَهَا لَهُ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا قَصْعَتَيْنِ فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا، وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ، فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ‏.‏

Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہما :

We were one hundred and thirty men sitting with the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, "Have anyone of you any food with him?" It happened that one man had one Sa of wheat flour (or so) which was turned into dough then. After a while a tall lanky pagan came, driving some sheep. The Prophet (ﷺ) asked, 'Will you sell us (a sheep), or give (it to) us as a gift?" The pagan said, "No, but I will sell it " So the Prophet bought from him a sheep which was slaughtered, and then the Prophet (ﷺ) ordered that the liver, the kidneys, lungs and heart, etc., of that sheep be roasted. By Allah, none of those one hundred and thirty men but had his share of those things. The Prophet (ﷺ) gave to those who were present, and also kept a share for those who were absent He then served that cooked sheep in two big trays and we all ate together our fill; yet there remained a part of it in those two trays which I carried on the camel.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ابوعثمان نہدی نے بھی بیان کیا اور ان سے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے ۔ ایک صاحب نے اپنے پاس سے ایک صاع کے قریب آٹا نکالا ، اسے گوندھ لیا گیا ، پھر ایک مشرک لمبا تڑنگا اپنی بکریاں ہانکتا ہوا ادھر آ گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ بیچنے کی ہیں یا عطیہ ہیں یا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عطیہ کے بجائے ) ” ہبہ “ فرمایا ۔ اس شخص نے کہا کہ نہیں بلکہ بیچنے کی ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی پھر ذبح کی گئی اور آپ نے اس کی کلیجی بھونے جانے کا حکم دیا اور قسم اللہ کی ایک سو تیس لوگوں کی جماعت میں کوئی شخص ایسا نہیں رہا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کی کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو مگر وہ موجود تھا تو اسے وہیں دے دیا اور اگر وہ موجودنہیں تھا تو اس کا حصہ محفوظ رکھا ، پھر اس بکری کے گوشت کو پکا کر دو بڑے کونڈوں میں رکھا اور ہم سب نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھایا پھر بھی دونوں کونڈوں میں کھانا بچ گیا تو میں نے اسے اونٹ پر لاد لیا.